ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کارگیدے کے عوام نے یوجی ڈی معاملے کو لے کر انجینر کا کیا گھیراو؛ عوام کو مطمئن کرنے میں انجینئر ناکام

بھٹکل کارگیدے کے عوام نے یوجی ڈی معاملے کو لے کر انجینر کا کیا گھیراو؛ عوام کو مطمئن کرنے میں انجینئر ناکام

Fri, 27 Nov 2020 22:13:49    S.O. News Service

بھٹکل 27 نومبر (ایس او نیوز) تعلقہ کے جالی پٹن پنچایت حدود کے کارگیدے میں انڈر گراونڈ ڈرینیج (یو جی ڈی)  کا کام شروع کیا گیا ہے مگر یہاں کے ذمہ داران کام کے تعلق سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں اور کام کو غیر معیاری اور پورےپروجکٹ کو غیر سائنٹیفک قرار دیتے ہوئے  مخالفت پر اُتر آئے ہیں۔

اس تعلق سے جمعہ کو کاروار سے واٹربورڈ کے انجینر ششی دھر ہیگڈے  جب جائے وقوع پر پہنچ کر عوام کو پروجکٹ کے تعلق سے سمجھانے کی کوشش کی تو عوام کی ایک بڑی تعداد نے انجینئر کو گھیرتے ہوئے  کئی طرح کے سوالات اُن کے سامنے رکھ دئے اور اپنی باتوں کی وضاحت چاہی۔ عوام نے انجام دیئے جارہے کام کو غیر معیاری قرار دیا اورپروجکٹ کو غیر سائنٹیفک قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ بارش کے موسم میں بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے کوئی انتظام ہی نہیں ہے تو پھر بارش کے پانی کو ڈرینیج کے پائپوں سے جانے سے روکنے کا اُن کے پاس کس طرح کا  متبادل انتظام ہے، اسی طرح رہائشی کامپلیکس تعمیر ہونے کے بعد باہر نکلنے والی غلاظت اگلے دو تین سالوں میں کئی گنا بڑھ جائے گی  تو  چھ انچ پائپوں کے ذریعے  یہ کیسے خارج ہوگی ؟ اس طرح کے بعض اہم سوالوں   پر انجینئر عوام کو اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے، اس موقع پر ذمہ داران نے جب کہا کہ غیر معیاری اور غیر سائنٹیفک کام انجام دینے کی صورت میں علاقہ کے عوام صاف پانی سے محروم ہوجائیں گے اور حالت بھٹکل کے پرانے محلہ غوثیہ اسٹریٹ جیسی ہوجائے گی، اس بنا پر یا تو پلان پر نظر ثانی کی جائے اور عوام کے خدشات کو دور کئے جائیں یا پھر کام کو روک دیا جائے تو  انجینر ششی دھر ہیگڈے نے  جو ابتدا میں یہ کہہ رہے تھے کہ عوام کی شکایتوں کو وہ اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کریں گے، عوام کے اس طرح کے سوالوں پر کہا کہ عوام اگریہاں یو جی ڈی پروجکٹ نہیں چاہتے ہیں تو وہ تحریری طور پر بتائیں۔ انہوں نے  کہا کہ پلان میں کوئی ردوبدل یا نظر ثانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو پلان بنایا گیا ہے اُسی کے تحت کام کو آگے بڑھایا جائے گا یا پھر اگر عوام  یہ پروجکٹ  یہاں نہیں چاہتے ہیں تو    پروجکٹ کو ہی  کینسل کیا جائے گا۔

اے سی کو دیا جائے گا میمورنڈم:   کاروار سے تشریف فرما واٹر بورڈ انجینر ششی دھر ہیگڈے کےذریعے معاملے کا حل نہ نکلنے پر کارگیدے کے عوام نے اب بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کرنے اور انہیں میمورنڈم پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ 

تنظیم سےمداخلت کی درخواست:  کارگیدے میں یو جی ڈی کاموں سے غیر مطمئن کارگیدے کے ذمہ داران کے  ایک وفد نے جمعرات کو قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم دفتر پہنچ کر تنظیم صدر ایس ایم پرویز سے ملاقات کی اور کارگیدے میں جاری یوجی ڈی کے کاموں  پر کئی سارے خدشات کا اظہارکیا،  غوثیہ محلہ کی مثال پیش کرتے ہوئے ذمہ داروں نے کنووں کے خراب ہونے کا بھی خدشہ  ظاہر کیا، ذمہ داران نے تنظیم صدر  پر زور دیا کہ وہ کارگیدے کے عوام کا ساتھ دیں اور اوپری علاقہ کو دوسرا غوثیہ محلہ بننے  سے بچائیں۔ بتایا گیا ہے  وفد کی قیادت    کارگیدے  علاقہ کے سرپرست مولانا مقبول کوبٹے ندوی کررہے تھے جبکہ دیگر ذمہ داران مولانا وصی اللہ ڈی ایف،   یونس رکن الدین، عرفان محتشم، مصباح الحق، بلال قمری  و دیگرلوگ موجود تھے۔

ایڈوکیٹ عمران لنکا کی طرف سے تنظیم کو یادداشت: جالی پٹن پنچایت کے آزاد نگر کی نمائندگی کرنے والے پٹن پنچایت ممبر اور بھٹکل کے معروف وکیل سید عمران لنکا نے  گذشتہ سال یو جی ڈی پروجکٹ سے غیر مطمئن ہوکر تنظیم کو میمورنڈم پیش کیا تھا اور کئی طرح کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے اس بات کا بھی تذکرہ کیا تھا کہ یہ پروجکٹ آگے چل کر بھٹکل کے عوام کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ایڈوکیٹ عمران لنکا نے لکھا تھا کہ بھٹکل ٹاون میونسپالٹی، جالی پٹن پنچایت اور دیگر علاقوں میں انڈر گراونڈ ڈرینج کے لئے کرناٹکا اربن واٹر سپلائی اینڈ ڈرینیج بورڈ کی طرف سے دو سو کروڑ روپئے جاری  کئے گئے ہیں۔ عمران لنکا کے مطابق پروجکٹ کے  بعد پروجکٹ کی دیکھ ریکھ (Maintenance)  پر پروجکٹ کی رقم کا  پانچ فیصد حصہ سالانہ خرچہ آئے گا یعنی سالانہ قریب دس کروڑ روپیہ۔ انہوں نے سوال اُٹھایا تھا کہ maintenance کے لئے ہر سال اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی ؟ ان کے مطابق میونسپالٹی میں مختلف ٹیکسوں اور بلوں کے ذریعے  صرف 1.8 سے دو کروڑ روپئےد تک  جمع ہوتی ہے ، جبکہ جالی پٹن پنچایت سے سالانہ قریب 70 سے 80 لاکھ روپئے جمع ہوتی ہے، دونوں رقومات کو ملائیں گے تو بھی maintenance کی مطلوبہ رقم حاصل نہیں ہوتی۔ عمران لنکا کے مطابق اگر maintenance پر سالانہ تین سے چار کروڑ روپئے بھی خرچہ آتا ہے  تو سوال یہی ہے کہ یہ رقم کہاں سے وصول کی جائے گی ؟

ایڈوکیٹ عمران لنکا نے بتایا کہ انہوں نے جو میمورنڈم تنظیم کو پیش کیا تھا،  اُس تعلق سے  اُنہیں تنظیم کی طرف سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے، اس لئے انہوں نے اب تنظیم کو ایک یاددہانی لیٹر دیا ہے اور کارگیدے کے تعلق سے سامنے آنے والے معاملے پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے کے نام دی گئی یاددہانی میں زور دیا ہے کہ تنظیم یو جی ڈی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیں، انہوں نے اپنی تحریر میں تنظیم کو متنبہ کرایا ہے کہ  اگر یہ پروجکٹ صحیح پلاننگ کے ساتھ  انجام نہیں دیا گیا تو پھر ٹاون کے عوام کے لئے یہ پروجکٹ بے حد سنگین مسئلہ پیدا کرسکتا ہے، اس لئے  ضروری ہے کہ تنظیم اس  پروجکٹ کے تمام پہلووں پر غور کریں۔

 


Share: